خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں۔ (مختلف المزاج اور) بدخو اور ایک آدمی خاص ایک شخص کا (غلام) ہے۔ بھلا دونوں کی حالت برابر ہے۔ (نہیں) الحمدلله بلکہ یہ اکثر لوگ نہیں جانتے
Az-Zumar 39:29
Compare 5 Urdu translations
ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فِيهِ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
DragHold to move · × to hide
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں ، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں.
اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتاہے؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں
اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے سب خوبیاں اللہ کو بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے
اللہ نے اس شخص کی مثال بیان کی ہے جس میں بہت سے جھگڑا کرنے والے شرکائ ہوں اور وہ شخص جو ایک ہی شخص کے سپرد ہوجائے کیا دونوں حالات کے اعتبار سے ایک جیسے ہوسکتے ہیں ساری تعریف اللہ کے لئے ہے مگر ان کی اکثریت سمجھتی ہی نہیں ہے